ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 11ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھاتم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبیٔ تقدیر بھی تھاتو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھاقید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یادہاں! کچھ اک رنجِ گراں باریٔ زنجیر بھی تھابجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا!بات کرتے، کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھایوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئیگر بگڑ بیٹھے، تو میں لائقِ تعزیر بھی تھادیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈانالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھاپیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں، وہ جواں میر بھی تھاہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہیآخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا؟پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحقآدمی کوئی ہمارا، دمِ تحریر بھی تھا؟ریختے کے تمھیں استاد نہیں ہو غالبؔکہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھاTap a word to look it up