دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھےکر گئی وابستۂ تن میری عُریانی مجھےبن گیا تیغِ نگاہِ یار کا سنگِ فَساںمرحبا مَیں! کیا مبارک ہے گراں جانی مجھےکیوں نہ ہو بے التفاتی، اُس کی خاطر جمع ہےجانتا ہے محوِ پُرسش ہائے پنہانی مجھےمیرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگیلِکھ دیا مِن جملۂ اسبابِ ویرانی، مجھےبد گماں ہوتا ہے وہ کافر، نہ ہوتا، کاشکے!اِس قدر ذوقِ نوائے مُرغِ بُستانی مجھےوائے! واں بھی شورِ محشر نے نہ دَم لینے دیالے گیا تھا گور میں ذوقِ تن آسانی مجھےوعدہ آنے کا وفا کیجے، یہ کیا انداز ہے؟تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے؟ہاں نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری، واہ واہ!پھر ہُوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھےدی مرے بھائی کو حق نے از سرِ نَو زندگیمیرزا یوسف ہے، غالبؔ! یوسفِ ثانی مجھےTap a word to look it up