کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کرMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 12کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کرآتش پرست کہتے ہیں اہلَ جہاں مجھےسر گرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کرکیا آبروئے عشق، جہاں عام ہو جفارکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کرآتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سےمرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کرثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلقلرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کروا حسرتا! کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کربِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھلیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کرزُنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈالرہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کران آبلوں سے پاؤں کے، گھبرا گیا تھا میںجی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کرکیا بد گماں ہے مجھ سے، کہ آئینے میں مرےطوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کرگرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طور پردیتے ہیں بادہ "ظرفِ قدح خوار" دیکھ کرسر پھوڑنا وہ! "غالبِؔ شوریدہ حال" کایاد آگیا مجھے تری دیوار دیکھ کرTap a word to look it up