قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کوMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 12قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کومرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کونہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہےنہ دی ہوتی خدا یا آرزوئے دوست، دشمن کونہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پرکیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگانِ سوزن کوخدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میںکبھی میرے گریباں کو، کبھی جاناں کے دامن کوابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیںنہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے تَوسن کوہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کاکیا بے تاب کاں میں، جنبشِ جوہر نے آہن کوخوشی کیا، کھیت پر میرے، اگر سو بار ابر آوےسمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کووفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہےمَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کوشہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کوجہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کونہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتارہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کوسخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کےجگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کومرے شاہِ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔفریدون و جم و کَیخُسرو و داراب و بہمن کوTap a word to look it up