نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیںMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیںہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیںعشق و مزدوریٔ عشرت گہِ خسرو، کیا خُوب!ہم کو تسلیم، نکو نامیٔ فرہاد نہیںکم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلومدشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیںاہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتبلَطمۂ موج کم از سیلیٔ استاد نہیںوائے مظلومیٔ تسلیم! و بدا! حالِ وفا!جانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیںرنگِ تمکینِ گُل و لالہ پریشاں کیوں ہے؟گر چراغانِ سرِ راہ گُزرِ باد نہیںسَبَدِ گُل کے تلے بند کرے ہے گل چیں!مژدہ اے مرغ! کہ گل زار میں صیّاد نہیںنفی سے کرتی ہے اِثبات طَراوِش گویادی ہی جائے دہن اس کو دمِ ایجاد ”نہیں“کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشتیہی نقشہ ہے ولے، اس قدر آباد نہیںکرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔتم کو بے مہریٔ یارانِ وطن یاد نہیں؟Tap a word to look it up