حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہےچمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہےقد و گیسو میں، قیس و کوہ کُن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہےکریں گے کوہ کُن کے حوصلے کا امتحاں آخرہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہےنسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہےوہ آیا بزم میں، دیکھو، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہےرہے دل ہی میں تیر ، اچھا، جگر کے پار ہو، بہترغرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہےنہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائیوفا داری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہےپڑا رہ، اے دلِ وابستہ! بے تابی سے کیا حاصل؟مگر پھر تابِ زُلفِ پُر شکن کی آزمائش ہےرگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم، تب دیکھیے کیا ہو!ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہےوہ آویں گے مِرے گھر، وعدہ کیسا، دیکھنا، غالبؔ!نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش ہےTap a word to look it up