غیر لیں محفل میں بوسے جام کےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کےخستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کےخط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہوہم تو عاشق ہیں تمھارے نام کےرات پی زم زم پہ مے اور صبح دمدھوئے دھبّے جامۂ احرام کےدل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگریہ بھی حلقے ہیں تمھارے دام کےشاہ کی ہے غسلِ صحّت کی خبردیکھیے کب دن پھریں حمّام کےعشق نے غالبؔ نکمّا کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کےTap a word to look it up