بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھیرہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سےتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھیخیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشےمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھینہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدمکہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھینہ اتنا بُرِّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤمرے دریائے بے تابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھیمئے عشرت کی خواہش ساقیٔ گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھیمجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہےکہیں ہو جائے جلد اے گردشِ گردونِ دوں، وہ بھی!نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کو آنے کاکہ میری خواب بندی کے لیے ہو گا فسوں وہ بھیمرے دل میں ہے غالبؔ شوقِ وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھیTap a word to look it up