مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 17مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےجوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئےکرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کوعرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوئےپھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دمبرسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئےپھر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے نفَسمدت ہوئی ہے سیرِ چراغاں کیے ہوئےپھر پرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشقسامانِ صد ہزار نمک داں کیے ہوئےپھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خونِ دلسازِ چمن طرازیٔ داماں کیے ہوئےباہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیبنظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئےدل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہےپندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئےپھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلبعرضِ متاعِ عقل و دل و جاں کیے ہوئےدوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیالصد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئےپھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولناجاں نذرِ دل فریبیٔ عنواں کیے ہوئےمانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوسزلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئےچاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزوسرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئےاک نوبہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہچہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئےپھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیںسر زیر بارِ منتِ درباں کیے ہوئےجی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دنبیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئےغالبؔ ہمیں نہ چھیڑ، کہ پھر جوشِ اشک سےبیٹھے ہیں ہم تہیّۂ طوفاں کیے ہوئےTap a word to look it up