ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہےنہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تُند خُو کیا ہےیہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوفِ بد آموزیٔ عدو کیا ہےچپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہےجلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گاکریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہےرگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہےوہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیزسوائے بادۂ گُلفامِ مشکبو کیا ہےپیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہےرہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھیتو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہےہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتاوگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہےTap a word to look it up