آبرو کیا خاک اُس گُل کی، کہ گلشن میں نہیںMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 11آبرو کیا خاک اُس گُل کی، کہ گلشن میں نہیںہے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیںضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیںرنگ ہو کر اڑ گیا، جو خوں کہ دامن میں نہیںہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہِ آفتابذرّے اُس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیںکیا کہوں تاریکیٔ زندانِ غم، اندھیر ہےپنبہ، نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں نہیںرونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سےانجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیںزخم سِلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعنغیر سمجھا ہے کہ لذّت زخمِ سوزن میں نہیںبس کہ ہیں ہم اک بہارِ ناز کے مارے ہوئےجلوۂ گُل کے سِوا گرد اپنے مدفن میں نہیںقطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کاخُوں بھی ذوقِ درد سے، فارغ مرے تن میں نہیںلے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مریموجِ مے کی آج رگ، مینا کی گردن میں نہیںہو فشارِ ضعف میں کیا نا توانی کی نمود؟قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیںتھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدربے تکلّف، ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیںTap a word to look it up