بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر، در و دیوارMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر، در و دیوارنگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیواروفورِ اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگکہ ہو گئے مرے دیوار و در، در و دیوارنہیں ہے سایہ، کہ سن کر نوید مَقدمِ یارگئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوارہوئی ہے کس قدر ارزانیٔ مئے جلوہکہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوارجو ہے تجھے سرِ سودائے انتظار، تو آکہ ہیں دکانِ متاعِ نظر در و دیوارہجومِ گریہ کا سامان کب کیا میں نےکہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیواروہ آ رہا مرے ہم سایہ میں، تو سائے سےہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوارنظر میں کھٹکے ہے بِن تیرے گھر کی آبادیہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوارنہ پوچھ بے خودیٔ عیشِ مَقدمِ سیلابکہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوارنہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ، نہیں زمانے میںحریفِ رازِ محبت مگر در و دیوارTap a word to look it up