کی وفا ہم سے، تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیںMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9کی وفا ہم سے، تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیںآج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر، ان سےکہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھئے کیا کہتے ہیںاگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انھیں کچھ نہ کہوجو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیںدل میں آ جائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سےاُور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیںہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجودقبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیںپائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہےخارِ رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیںاک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائے گا کیاآگ مطلوب ہے ہم کو، جو ہَوا کہتے ہیںدیکھیے لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگاُس کی ہر بات پہ ہم نامِ خدا کہتے ہیںوحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شایدمر گیا غالبِؔ آشفتہ نوا، کہتے ہیںTap a word to look it up