خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 5خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائےغرورِ دوستی آفت ہے، تُو دُشمن نہ ہو جائےبہ پاسِ شوخیٔ مژگاں سرِ ہر خار سوزن ہےتبسّم برگِ گل کو بخیہِ دامن نہ ہو جائےجراحت دوزیٔ عاشق ہے جائے رحم ترساں ہوںکہ رشتہ تارِ اشکِ دیدۂ سوزن نہ ہو جائےغضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینیسپیدی آئنے کی پنبۂ روزن نہ ہو جائےسمجھ اس فصل میں کوتاہیٔ نشو و نما، غالبؔ!اگر گُل سَرو کے قامت پہ، پیراہن نہ ہو جائےTap a word to look it up