کل کے لیے کر آج نہ خسّت شراب میںMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 11کل کے لیے کر آج نہ خِسّت شراب میںیہ سُوء ظن ہے ساقیٔ کوثر کے باب میںہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسندگستاخیٔ فرشتہ ہماری جناب میںجاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماعگر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میںرَو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمےنے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میںاتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہےجتنا کہ وہمِ غیر سے ہُوں پیچ و تاب میںاصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہےحیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میںہے مشتمل نمُودِ صُوَر پر وجودِ بحریاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میںشرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہیہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یُوں حجاب میںآرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میںہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہودہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میںغالبؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوستمشغولِ حق ہوں، بندگیٔ بُوتراب میںTap a word to look it up