یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 8یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کایاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کابے مے کِسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہیکھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کابُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گلکہتے ہیں جس کو عشق، خلل ہے دماغ کاتازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھےتِریاکیٔ قدیم ہوں دُودِ چراغ کاسو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئےپر کیا کریں کہ دل ہی عَدُو ہے فراغ کابے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غباریہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کاباغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دلابرِ بہار خم کدہ کِس کے دماغ کا!جوشِ بہار کلفتِ نظّارہ ہے اسدؔہے ابر پنبہ روزنِ دیوارِ باغ کاTap a word to look it up