لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اورMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اورمٹ جائےگا سَر، گر ترا پتھر نہ گھِسے گاہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اورآئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ "جاؤں؟"مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اورجاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گےکیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اورہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارفؔکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اورتم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اورتم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کےکرتا مَلَکُ الموت تقاضا کوئی دن اورمجھ سے تمھیں نفرت سہی، نیّرؔ سے لڑائیبچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اورگزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و نا خوشکرنا تھا جواں مرگ، گزارا کوئی دن اورناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔقسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اورTap a word to look it up