تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملےحورانِ خلد میں تری صورت مگر ملےاپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملےساقی گری کی شرم کرو آج، ورنہ ہمہر شب پِیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملےتجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیممیرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملےتم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کِیافرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملےلازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریںجانا کہ اِک بزرگ ہمیں ہمسفر ملےاے ساکنانِ کوچۂ دل دار دیکھناتم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملےTap a word to look it up