بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یا رب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلاشب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلااِس تکلّف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلاگرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریبآستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلاگو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گو نہ پاؤں اس کا بھیدپر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلاہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیالخلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلامنہ نہ کھلنے پرہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیںزلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے منہ پر کھلادر پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیاجتنے عرصے میں مِرا لپٹا ہوا بستر کھلاکیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلاؤں کا نزولآج اُدھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلاکیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حالنامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلااس کی امّت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بندواسطے جس شہ کے غالبؔ! گنبدِ بے در کھلاTap a word to look it up