قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہواMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 8قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہواخطِّ جامِ مے سراسر رشتۂ گوہر ہوااعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھناغیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہواگرمیٔ دولت ہوئی آتش زنِ نامِ نکوخانۂ ماتم میں یاقوتِ نگیں اخگر ہوانشّے میں گُم کردہ رہ آیا وہ مستِ فتنہ خوآج رنگِ رفتہ دورِ گردشِ ساغر ہوادرد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکستریزہ ریزہ استخواں کا پوست میں نشتر ہوااے بہ ضبطِ حال خو ناکردگاں جوشِ جنوںنشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوازُہد گر دیدن ہے گِردِ خانہ ہائے منعماںدانۂ تسبیح سے میں مہرہ در ششدر ہوااس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔتر زبانِ شکرِ لطفِ ساقیٔ کوثر ہواTap a word to look it up