ذکر اس پریوش کا اور پھر بیاں اپناMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 8ذکر اس پریوش کا اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنامے وہ کیوں بہت پیتے بزمِ غیر میں یا ربآج ہی ہوا منظور اُن کو امتحاں اپنامنظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتےعرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنادے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گےبارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں، اپنادردِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلا دوںانگلیاں فگار اپنی، خامہ خوںچکاں اپناگھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلاننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپناتا کرے نہ غمازی، کر لیا ہے دشمن کودوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپناہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھےبے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپناTap a word to look it up