کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 8کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سےجفائیں کر کے اپنی یاد، شرما جائے ہے، مُجھ سےخُدایا! جذبۂ دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہے!کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کِھنچتا جائے ہے مُجھ سےوہ بَد خُو اور میری داستانِ عشق طُولانیعبارت مُختصر، قاصد بھی گھبرا جائے ہے، مُجھ سےاُدھر وہ بد گمانی ہے، اِدھر یہ ناتوانی ہےنہ پُوچھا جائے ہے اُس سے، نہ بولا جائے ہے مجھ سےسنبھلنے دے مجھے اے نا اُمیدی! کیا قیامت ہے!کہ دامانِ خیالِ یار، چُھوٹا جائے ہے مُجھ سےتکلف بر طرف، نظارگی میں بھی سہی، لیکنوہ دیکھا جائے، کب یہ ظُلم دیکھا جائے ہے، مُجھ سےہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمینہ بھاگا جائے ہے مجھ سے، نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سےقیامت ہے کہ ہووے مُدعی کا ہم سفر غالبؔ!وہ کافر، جو خُدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مُجھ سےTap a word to look it up