دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیےہوا رقیب، تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیےیہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بِن نہ رہےقضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے، کیا کہیے!رہے ہے یوں گِہ و بے گہِ، کہ کُوئے دوست کو اباگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے، کیا کہیے!زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریبکہ بن کہے ہی انھیں سب خبر ہے، کیا کہیےسمجھ کے کرتے ہیں، بازار میں وہ پُرسشِ حالکہ یہ کہے کہ، سرِ رہ گزر ہے، کیا کہیے؟تمھیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیالہمارے ہاتھ میں کچھ ہے، مگر ہے کیا؟ کہیے!اُنہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے، کیوں لڑیئےہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے، کیا کہیے؟حَسد، سزائے کمالِ سخن ہے، کیا کیجےسِتم، بہائے متاعِ ہُنر ہے، کیا کہیے!کہا ہے کِس نے کہ غالبؔ بُرا نہیں، لیکنسوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے، کیا کہیےTap a word to look it up