منظور تھی یہ شکل تجلّی کو نور کیMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9منظور تھی یہ شکل تجلّی کو نور کیقسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کیاِک خوں چکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیںپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کیواعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکوکیا بات ہے تمھاری شرابِ طہور کی!لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اٹھا؟گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کیآمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنجاڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کیگو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیںکعبے سے اِن بتوں کو بھی نسبت ہے دور کیکیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جوابآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کیگرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اس قدرکی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کیغالبؔ گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کیTap a word to look it up