عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی، درد بے دوا پایاغنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایاشورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایافکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پاعضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایاحال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنیہم نے بارہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایاشب نظارہ پرور تھا خواب میں خرام اس کاصبح موجۂ گل کو نقشِ بوریا پایاجس قدر جگر خوں ہو، کوچہ دادنِ گل ہےزخمِ تیغِ قاتل کو طُرفہ دل کشا پایاہے نگیں کی پا داری نامِ صاحبِ خانہہم سے تیرے کوچے نے نقشِ مدّعا پایادوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلومآہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایانَے اسدؔ جفا سائل، نَے ستم جنوں مائلتجھ کو جس قدر ڈھونڈھا الفت آزما پایاTap a word to look it up