وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہوMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10وارَستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہوکیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہوچھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کاہے دل پہ بار، نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہوہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہوپیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر درد کی دوایوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہوڈالا نہ بےکسی نے کسی سے معاملہاپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہوہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیالہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہوہنگامۂ زبونیٔ ہمّت ہے، انفعالحاصل نہ کیجے دہر سے، عبرت ہی کیوں نہ ہووارستگی بہانۂ بیگانگی نہیںاپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہومٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی؟عمرِ عزیز صَرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہواس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔاس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہوTap a word to look it up