نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ سازMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10نہ گُلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ سازمیں ہوں اپنی شکست کی آوازتو اور آرائشِ خمِ کاکلمیں اور اندیشہ ہائے دور درازلافِ تمکیں، فریبِ سادہ دلیہم ہیں اور راز ہائے سینہ گدازہوں گرفتارِ الفتِ صیّادورنہ باقی ہے طاقتِ پروازوہ بھی دن ہو، کہ اس ستم گر سےناز کھینچوں، بہ جائے حسرتِ نازنہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خونجس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گل بازاے ترا غمزہ یک قلم انگیزاے ترا ظلم سر بہ سر اندازتو ہوا جلوہ گر، مبارک ہو!ریزشِ سجدۂ جبینِ نیازمجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوامیں غریب اور تو غریب نوازاسدؔ اللّٰہ خاں تمام ہوااے دریغا! وہ رندِ شاہد بازTap a word to look it up