جَور سے باز آئے پر، باز آئیں کیاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7جَور سے باز آئے پر، باز آئیں کیاکہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیارات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیالاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیاہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھیا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیاموجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائےآستانِ یار سے اٹھ جائیں کیاعمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہمر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیاپوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیاTap a word to look it up