کب وہ سنتا ہے کہانی میریMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9کب وہ سنتا ہے کہانی میریاور پھر وہ بھی زبانی میریخلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھدیکھ خوں نابہ فشانی میریکیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یارمگر آشفتہ بیانی میریہوں ز خود رفتۂ بیدائے خیالبھول جانا ہے نشانی میریمتقابل ہے مقابل میرارک گیا دیکھ روانی میریقدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوںسخت ارزاں ہے گرانی میریگرد بادِ رہِ بے تابی ہوںصرصرِ شوق ہے بانی میریدہن اس کا جو نہ معلوم ہواکھل گئی ہیچ مدانی میریکر دیا ضعف نے عاجز غالبؔننگِ پیری ہے جوانی میریTap a word to look it up