پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل، جگر تشنۂ فریاد آیادم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوزپھر ترا وقتِ سفر یاد آیاسادگی ہائے تمنا، یعنیپھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیاعذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!نالہ کرتا تھا، جگر یاد آیازندگی یوں بھی گزر ہی جاتیکیوں ترا راہ گزر یاد آیاکیا ہی رضواں سے لڑائی ہو گیگھر ترا خلد میں گر یاد آیاآہ! وہ جرأتِ فریاد کہاںدل سے تنگ آ کے جگر یاد آیاپھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیالدلِ گم گشتہ، مگر، یاد آیاکوئی ویرانی سی ویرانی ہےدشت کو دیکھ کے گھر یاد آیامیں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔسنگ اٹھایا تھا، کہ سر یاد آیاTap a word to look it up