اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9اُس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیےدل ہی تو ہے سیاستِ درباں سے ڈر گیامیں اور جاؤں در سے ترے بِن صدا کیےرکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مےمدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیےبے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضرحضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیےمقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیمتو نے وہ گنجِ ہائے گراں مایہ کیا کیےکس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو؟کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے؟صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خُودینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیےضد کی ہے اور بات مگر خُو بری نہیںبھُولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیےغالبؔ تمھیں کہو کہ ملے گا جواب کیامانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیےTap a word to look it up