حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےاس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہےبوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہےاور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیاساغرِ جم سے مرا جامِ سِفال اچّھا ہےبے طلب دیں تو مزہ اُس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچّھا ہےان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہےدیکھیے پاتے ہیں عُشّاق بُتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہےہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کِیاجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچّھا ہےقطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائےکام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ ماٰل اچّھا ہےخضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبزشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہےہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچّھا ہےTap a word to look it up