کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہوMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 11کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہونہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہووہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیںسبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہوکِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کونہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہووفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہراتو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہوقفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدمگری ہے جس پہ کل بجلی، وہ میرا آشیاں کیوں ہویہ کہہ سکتے ہو "ہم دل میں نہیں ہیں" پر یہ بتلاؤکہ جب دل میں تمھیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہوغلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہےنہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہویہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہےہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہویہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیںعدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہوکہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائیبجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہونکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالبؔترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہوTap a word to look it up