تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہوMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہوبچتے نہیں مواخذۂ روزِ حشر سےقاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہوکیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیںمانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہوابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے، ایک تارمرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہوجب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قیدمسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہوسنتے ہیں جو بہشت کی تعریف، سب درستلیکن خدا کرے وہ تِرا جلوہ گاہ ہوغالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیںدنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہوTap a word to look it up