دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہےمیں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہےہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہےآبگینہ تندیٔ صہبا سے پگھلا جائے ہےغیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرےگر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہےشوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیےدل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہےدور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہنغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہےگرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشقپر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہےاس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاںمثلِ نقشِ مدّعائے غیر بیٹھا جائے ہےہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیارنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہےنقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیںکھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہےسایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔپاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہےTap a word to look it up