درد مِنّت کشِ دوا نہ ہواMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہواجمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا، گِلا نہ ہواہم کہاں قسمت آزمانے جائیںتو ہی جب خنجر آزما نہ ہواکتنے شیریں ہیں تیرے لب، "کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا"ہے خبر گرم ان کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہواکیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟بندگی میں مرا بھلا نہ ہواجان دی، دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوازخم گر دب گیا، لہو نہ تھماکام گر رک گیا، روا نہ ہوارہزنی ہے کہ دل ستانی ہے؟لے کے دل، "دلستاں" روانہ ہواکچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیںآج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا!Tap a word to look it up