غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کیکھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب!قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کیلپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہےولے مشکل ہے حکمت، دل میں سوزِ غم چھپانے کیانھیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھااٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کیہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرناترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کیلکدکوبِ حوادث کا تحمّل کر نہیں سکتیمری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کے ناز اٹھانے کیکہوں کیا خوبیٔ اوضاعِ ابنائے زماں غالبؔبدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکیTap a word to look it up