آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تکMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 8آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تککون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تکدامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگدیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تکعاشقی صبر طلب اور تمنّا بے تابدل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تکہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے، لیکنخاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تکپرتوِ خُور سے، ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں، ایک عنایت کی نظر ہونے تکیک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل!گرمیٔ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تکتا قیامت شبِ فرقت میں گزر جائے گی عمرسات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تکغمِ ہستی کا، اسدؔ! کس سے ہو جُز مرگ، علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تکTap a word to look it up