نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنےکیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنےمیں بُلاتا تو ہوں اُس کو، مگر اے جذبۂ دلاُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنےکھیل سمجھا ہے، کہیں چھوڑ نہ دے، بھول نہ جائےکاش! یُوں بھی ہو کہ بِن میرے ستائے نہ بنےغیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ، اگرکوئی پُوچھے کہ یہ کیا ہے، تو چُھپائے نہ بنےاِس نزاکت کا بُرا ہو، وہ بھلے ہیں، تو کیاہاتھ آویں، تو اُنھیں ہاتھ لگائے نہ بنےکہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہےپردہ چھوڑا ہے وہ اُس نے کہ اُٹھائے نہ بنےموت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بِن آئے نہ رہےتم کو چاہوں؟ کہ نہ آؤ، تو بُلائے نہ بنےبوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اُٹھائے نہ اُٹھےکام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنےعشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالبؔ!کہ لگائے نہ لگے اور بُجھائے نہ بنےTap a word to look it up