مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںسوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیںمگر غبار ہُوئے پر، ہَوا اُڑا لے جائےوگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیںیہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے؟کہ غیرِ جلوۂ گُل رہ گزر میں خاک نہیںبھلا اُسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتااثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیںخیالِ جلوۂ گُل سے خراب ہیں مے کششراب خانے کے دیوار و در میں خاک نہیںہُوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہسوائے حسرتِ تعمیر، گھر میں خاک نہیںہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔکُھلا، کہ فائدہ عرضِ ہُنر میں خاک نہیںTap a word to look it up