تُو دوست کسی کا بھی، ستم گر! نہ ہوا تھاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7تُو دوست کسی کا بھی، ستم گر! نہ ہوا تھااوروں پہ ہے وہ ظلم، کہ مجھ پر نہ ہوا تھاچھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضا نےخورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھاتوفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ازل سےآنکھوں میں ہے وہ قطرہ، کہ گوہر نہ ہوا تھاجب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالممیں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھامیں سادہ دل، آزردگیٔ یار سے خوش ہوںیعنی سبقِ شوقِ مکرّر نہ ہوا تھادریائے معاصی تُنُک آبی سے ہوا خشکمیرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھاجاری تھی اسدؔ! داغِ جگر سے مِری تحصیلآتش کدہ جاگیرِ سَمَندر نہ ہوا تھاTap a word to look it up