غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سے مجھے بتا کہ یُوںپُرسِشِ طرزِ دلبری کیجیے کیا؟ کہ بن کہےاُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوںرات کے وقت مَے پِیے ساتھ رقیب کو لیےآئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یُوں"غیر سے رات کیا بنی" یہ جو کہا تو دیکھیےسامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یُوںبزم میں اُس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیےاُس کی تو خامُشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یُوںمیں نے کہا کہ "بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی"سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں؟مجھ سے کہا جو یار نے "جاتے ہیں ہوش کس طرح"دیکھ کے میری بے خودی، چلنے لگی ہوا کہ یُوںکب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھیآئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یُوںگر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوالموجِ محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یُوںجو یہ کہے کہ "ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسی؟"گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوںTap a word to look it up