گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہوMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہوکہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہوہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصالکہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہوادب ہے اور یہی کشمکش، تو کیا کیجےحیا ہے اور یہی گومگو تو کیوں کر ہوتمھیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کابتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیوں کر ہوالجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہجو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیوں کر ہوجسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا ساوہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہوہمیں پھر ان سے امید اور انھیں ہماری قدرہماری بات ہی پوچھیں نہ وو تو کیوں کر ہوغلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کانہ مانے دیدۂ دیدار جو، تو کیوں کر ہوبتاؤ اُس مِژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قراریہ نیش ہو رگِ جاں میں فِرو تو کیوں کر ہومجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بہ قولِ حضور"فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو"Tap a word to look it up