نہیں، کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7نہیں، کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںشبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیںکوئی کہے کہ "شبِ مَہ میں کیا بُرائی ہے"بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیںجو آؤں سامنے اُن کے تو مرحبا نہ کہیںجو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیر باد نہیںکبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں، تو کہتے ہیںکہ "آج بزم میں کچھ فتنۂ و فساد نہیں"علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شرابگدائے کُوچۂ مے خانہ نا مراد نہیںجہاں میں ہو غم و شادی بہم، ہمیں کیا کام؟دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیںتم اُن کے وعدے کا ذکر اُن سے کیوں کرو غالبؔیہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ"یاد نہیں"Tap a word to look it up