بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئےجتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئےپنہاں تھا دام، سخت قریب آشیان کےاڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئےہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہےیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قَسم ہوئےسختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبروہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئےتیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میںتیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئےلکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاںہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئےاللّٰہ ری تیری تندیٔ خُو جس کے بِیم سےاجزائے نالہ دل میں مرے رزقِ ہم ہوئےاہلِ ہوس کی فتح ہے ترکِ نبردِ عشقجو پاؤں اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئےنالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھےجو واں نہ کھِنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئےچھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگیسائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئےTap a word to look it up