دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایکMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 11دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایکوضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایکہم سخن اور ہم زباں، حضرتِ قاسم و طپاںایک تپش کا جانشین، درد کی یادگار ایکنقدِ سخن کے واسطے ایک عیارِ آگہیشعر کے فن کے واسطے، مایۂ اعتبار ایکایک وفا و مہر میں تازگیٔ بساطِ دہرلطف و کرم کے باب میں زینتِ روزگار ایکگُل کدۂ تلاش کو، ایک ہے رنگ، اک ہے بوریختہ کے قماش کو، پود ہے ایک، تار ایکمملکتِ کمال میں ایک امیرِ نامورعرصۂ قیل و قال میں، خسروِ نام دار ایکگلشنِ اتّفاق میں ایک بہارِ بے خزاںمے کدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایکزندۂ شوقِ شعر کو ایک چراغِ انجمنکُشتۂ ذوقِ شعر کو شمعِ سرِ مزار ایکدونوں کے دل حق آشنا، دونوں رسول پر فِداایک مُحبِّ چار یار، عاشقِ ہشت و چار ایکجانِ وفا پرست کو ایک شمیمِ نو بہارفرقِ ستیزہ مست کو، ابرِ تگرگِ بار ایکلایا ہے کہہ کے یہ غزل، شائبۂ رِیا سے دورکر کے دل و زبان کو غالبؔ خاک سار ایکTap a word to look it up