چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرےصبح کے مانند، زخمِ دل گریبانی کرےجلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ، گر کیجے خیالدیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرےہے شکستن سے بھی دل نومید، یا رب! کب تلکآبگینہ کوہ پر عرضِ گِراں جانی کرےمے کدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکستمُوئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرےخطِّ عارض سے، لکھا ہے زُلف کو الفت نے عہدیک قلم منظور ہے، جو کچھ پریشانی کرےہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقتِ قہقہہکرمکِ شب تاب آسا مِہ پر افشانی کرےوقت اس افتادہ کا خوش، جو قناعت سے اسدؔنقشِ پائے مور کو نقشِ سلیمانی کرےTap a word to look it up