حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیںMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیںمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیںچھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوںہر اک سے پُوچھتا ہوں کہ "جاؤں کدھر کو مَیں"جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار باراے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو مَیںہے کیا، جو کس کے باندھیے میری بلا ڈرےکیا جانتا نہیں ہُوں تمھاری کمر کو مَیںلو، وہ بھی کہتے ہیں کہ "یہ بے ننگ و نام ہے"یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو مَیںچلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک تیز رَو کے ساتھپہچانتا نہیں ہُوں ابھی راہبر کو مَیںخواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرارکیا پُوجتا ہوں اس بُتِ بیداد گر کو مَیںپھر بے خودی میں بھول گیا راہِ کوئے یارجاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو مَیںاپنے پہ کر رہا ہُوں قیاس اہلِ دہر کاسمجھا ہوں دل پذیر متاعِ ہُنر کو مَیںغالبؔ خدا کرے کہ سوارِ سمندِ نازدیکھوں علی بہادرِ عالی گُہر کو مَیںTap a word to look it up