میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہیMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہیتم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہیغیر کی مرگ کا غم کس لیے، اے غیرتِ ماہ!ہیں ہوس پیشہ بہت، وہ نہ ہُوا اور سہیتم ہو بت، پھر تمھیں پندارِ خُدائی کیوں ہے؟تم خداوند ہی کہلاؤ، خدا اور سہیحُسن میں حُور سے بڑھ کر نہیں ہونے کی کبھیآپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہیتیرے کوچے کا ہے مائل دلِ مضطر میراکعبہ اک اور سہی، قبلہ نما اور سہیکوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے، واعظ!خلد بھی باغ ہے، خیر آب و ہوا اور سہیکیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں، یا ربسیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہیمجھ کو وہ دو۔ کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوںزہر کچھ اور سہی، آبِ بقا اور سہیمجھ سے غالبؔ یہ علائیؔ نے غزل لکھوائیایک بیداد گرِ رنج فزا اور سہیTap a word to look it up