بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 14بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگےاک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیکاک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگےجز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظورجز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگےہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتےگِھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگےمت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھےتو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگےسچ کہتے ہو خود بین و خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوںبیٹھا ہے بتِ آئینہ سیما مرے آگےپھر دیکھیے اندازِ گل افشانیٔ گفتاررکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگےنفرت کا گماں گزرے ہے، میں رشک سے گزراکیوں کر کہوں، لو نام نہ ان کا مرے آگےایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفرکعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگےعاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کاممجنوں کو برا کہتی ہے لیلےٰ مرے آگےخوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتےآئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگےہے موج زن اک قلزمِ خوں کاش یہی ہوآتا ہے ابھی دیکھیے، کیا کیا مرے آگےگو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے!رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگےہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میراغالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگےTap a word to look it up